13 مئی 2026 - 16:48
ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی شدید متاثر ہونے کا خدشہ، عالمی توانائی ایجنسی کی وارننگ

عالمی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایران، امریکہ اور صہیونی رژیم کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے باعث دنیا بھر میں تیل کی فراہمی میں شدید کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عالمی توانائی ایجنسی نے اپنی تازہ ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال عالمی سطح پر تیل کی سپلائی طلب کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث تیل کی پیداوار اور برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں جبکہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت رکنے سے اب تک عالمی سپلائی میں مجموعی طور پر ایک ارب سے زائد بیرل تیل کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک سے روزانہ 14 ملین بیرل سے زائد تیل کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈی کو حالیہ برسوں کے بڑے سپلائی بحران کا سامنا ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی نے پیش گوئی کی ہے کہ سال 2026 میں عالمی طلب کے مقابلے میں یومیہ تقریباً 17 لاکھ 80 ہزار بیرل تیل کی کمی رہے گی، جبکہ اس سے قبل اضافی سپلائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی تیل کی پیداوار میں بھی تقریباً 39 لاکھ بیرل یومیہ کمی آ سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی معاشی سست روی نے تیل کی طلب کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق رواں سال عالمی طلب میں یومیہ تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار بیرل کمی متوقع ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے براہ راست اثرات دنیا بھر میں دیکھے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزارتِ توانائی نے بھی کہا ہے کہ امکان ہے آبنائے ہرمز مئی کے آخر تک جزوی یا مکمل بندش کی صورتحال میں رہے گی جبکہ جون سے بحری آمدورفت کی مرحلہ وار بحالی شروع ہو سکتی ہے۔

ادھر چند روزہ اضافے کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی میں مسلسل رکاوٹوں اور عالمی ذخائر میں کمی کے باعث آنے والے مہینوں میں قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha